پاکستان میں واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہونے کے واقعات عام ہو چکے ہیں۔ عام طور پر ہیکر کسی ٹیکنالوجی کی کمزوری کے بجائے صارف کو دھوکہ دے کر اس سے کوڈ حاصل کر لیتا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ چند سادہ احتیاطوں سے آپ اپنا اکاؤنٹ بڑی حد تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اس مضمون میں سات ایسی عملی باتیں بتائی گئی ہیں۔
جب آپ واٹس ایپ نئے موبائل پر لگاتے ہیں تو ایس ایم ایس پر چھ ہندسوں کا کوڈ آتا ہے۔ اگر کوئی جاننے والا بھی، مثلاً آپ کا دوست یا رشتہ دار جس کا اکاؤنٹ بظاہر ہیک ہوا ہو، آپ سے کہے کہ "غلطی سے میرا کوڈ آپ کو آ گیا ہے، مجھے بھیج دیں"، تو ہرگز نہ بھیجیں۔ یہ سب سے عام دھوکہ ہے۔ کوڈ دیتے ہی آپ کا اکاؤنٹ دوسرے کے قبضے میں چلا جاتا ہے۔
سیٹنگز میں "اکاؤنٹ" کے تحت "ٹو اسٹیپ ویری فکیشن" آن کریں اور چھ ہندسوں کا اپنا پن بنائیں۔ اس کے بعد کوئی بھی آپ کا نمبر نئے موبائل پر رجسٹر کرنا چاہے تو کوڈ کے ساتھ یہ پن بھی مانگا جائے گا۔ یہ پن کسی کو نہ بتائیں، اور ایک ای میل بھی درج کر دیں تاکہ پن بھول جانے پر ری سیٹ ہو سکے۔
"آپ کا انعام نکل آیا ہے"، "سرکاری امداد کے لیے یہاں کلک کریں" یا "اپنے واٹس ایپ کا نیا ورژن یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں" جیسے پیغامات عام طور پر جعلی ہوتے ہیں۔ ان لنکس پر کلک کرنے سے آپ کی معلومات چوری ہو سکتی ہیں۔ کسی بھی پیغام کے بارے میں شک ہو تو پہلے بھیجنے والے سے کسی اور ذریعے سے تصدیق کر لیں۔
واٹس ایپ میں "لنکڈ ڈیوائسز" کا حصہ دکھاتا ہے کہ آپ کا اکاؤنٹ کن کمپیوٹرز یا موبائلوں پر کھلا ہے۔ کبھی کبھار اسے دیکھ لیں۔ اگر کوئی ایسی ڈیوائس نظر آئے جسے آپ نہیں جانتے تو اسے فوراً لاگ آؤٹ کر دیں۔ عوامی کمپیوٹر پر واٹس ایپ ویب استعمال کرنے کے بعد لاگ آؤٹ کرنا نہ بھولیں۔
جی بی واٹس ایپ اور اسی طرح کی دوسری ایپس اضافی فیچرز کا لالچ دیتی ہیں، لیکن یہ واٹس ایپ کی اصل ایپ نہیں ہوتیں۔ ان میں آپ کی چیٹس چوری ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، اور واٹس ایپ ایسے اکاؤنٹس کو بند بھی کر دیتا ہے۔ صرف گوگل پلے اسٹور سے اصل ایپ ہی انسٹال کریں۔
موبائل پر پن، پیٹرن یا فنگر پرنٹ لاک ضرور لگائیں، تاکہ کوئی آپ کی غیر موجودگی میں آپ کا واٹس ایپ نہ کھول سکے۔ واٹس ایپ اور موبائل کے سسٹم کو اپڈیٹ رکھیں، کیونکہ اپڈیٹس میں حفاظتی خامیاں دور کی جاتی ہیں۔ واٹس ایپ کی سیٹنگز میں "پرائیویسی" میں جا کر "ایپ لاک" بھی لگایا جا سکتا ہے۔
نامعلوم لوگ آپ کو گروپس میں شامل کر کے لنکس بھیجتے ہیں۔ پرائیویسی سیٹنگز میں "گروپس" کا آپشن "میرے رابطے" پر رکھیں تاکہ کوئی بھی آپ کو گروپ میں نہ ڈال سکے۔ نامعلوم نمبر سے آنے والی وائس یا ویڈیو کالز کا جواب نہ دیں، اور اپنے پروفائل کی تصویر اور معلومات صرف رابطوں تک محدود رکھیں۔
سب سے پہلے اپنے فون نمبر سے واٹس ایپ دوبارہ رجسٹر کریں اور کوڈ درج کریں۔ اس سے ہیکر خود بخود لاگ آؤٹ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ٹو اسٹیپ ویری فکیشن آن کر دیں۔ اپنے رابطوں کو کسی دوسرے ذریعے سے اطلاع دیں کہ آپ کے نام سے آنے والے پیغامات پر یقین نہ کریں اور رقم نہ بھیجیں۔ اگر واٹس ایپ رجسٹر نہ ہو سکے تو واٹس ایپ کی سپورٹ سے رابطہ کریں۔ پیسوں کے فراڈ کی صورت میں متعلقہ سرکاری ادارے کو بھی اطلاع دی جا سکتی ہے۔
کوڈ اور پن کسی کو نہ دیں، ٹو اسٹیپ ویری فکیشن آن رکھیں، مشکوک لنکس سے بچیں اور صرف اصل ایپ استعمال کریں۔ ان چند باتوں سے آپ کا اکاؤنٹ محفوظ رہ سکتا ہے۔ بیک اپ کا طریقہ واٹس ایپ چیٹ کا بیک اپ کیسے لیں میں دیکھیں۔