چیزوں پر رعایت (ڈسکاؤنٹ) کا حساب کیسے لگائیں؟

ڈسکاؤنٹ کی علامتی تصویر: فیصد کا نشان اور سکے

بازار میں "50 فیصد تک رعایت" یا "ایک خریدو، ایک مفت" جیسے اعلانات دیکھ کر ہر کوئی خوش ہو جاتا ہے، مگر اصل بچت کتنی ہے، یہ حساب لگانا سب کو نہیں آتا۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس کے لیے صرف چند سادہ فارمولے چاہییں۔ اس مضمون میں ہم مثالوں کے ساتھ دیکھیں گے کہ رعایت کیسے نکالتے ہیں، رعایت کے بعد قیمت سے اصل قیمت کیسے معلوم کرتے ہیں، اور کن باتوں میں دکاندار کے اعلان سے دھوکا کھایا جا سکتا ہے۔

بنیادی فارمولا

رعایت کی رقم نکالنے کے لیے اصل قیمت کو رعایت کی فیصد سے ضرب دیں اور 100 پر تقسیم کریں۔ پھر اصل قیمت میں سے رعایت کی رقم منفی کر دیں تو آپ کو ادا کی جانے والی قیمت مل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک جوتا 4,500 روپے کا ہے اور اس پر 20 فیصد رعایت ہے۔ رعایت کی رقم 4,500 × 20 ÷ 100 = 900 روپے بنی، اس لیے آپ کو جوتا 4,500 − 900 = 3,600 روپے میں ملے گا۔ ایک اور تیز طریقہ یہ ہے کہ 20 فیصد رعایت کا مطلب ہے کہ آپ 80 فیصد قیمت ادا کر رہے ہیں، یعنی 4,500 × 0.80 = 3,600۔

رعایت کے بعد کی قیمت سے اصل قیمت معلوم کریں

کبھی کبھی آپ کو صرف سیل کی قیمت پتا ہوتی ہے اور آپ جاننا چاہتے ہیں کہ اصل قیمت کیا تھی۔ اس کے لیے سیل کی قیمت کو (100 منفی رعایت کی فیصد) سے تقسیم کر کے 100 سے ضرب دیں۔ مثال کے طور پر ایک شرٹ 20 فیصد رعایت کے بعد 2,400 روپے کی ہے۔ یہاں 100 − 20 = 80 ہے، اس لیے اصل قیمت 2,400 ÷ 80 × 100 = 3,000 روپے تھی۔ ایک عام غلطی یہ ہے کہ لوگ 2,400 پر 20 فیصد جمع کر دیتے ہیں، جس سے 2,880 روپے آتے ہیں، جو غلط ہے، کیونکہ 20 فیصد رعایت اصل قیمت پر تھی، سیل کی قیمت پر نہیں۔

دو رعایتیں جمع نہیں ہوتیں

جب دکان پر لکھا ہو کہ "20 فیصد رعایت اور اس کے اوپر مزید 10 فیصد"، تو یہ 30 فیصد رعایت نہیں ہوتی۔ دوسری رعایت پہلی رعایت کے بعد والی قیمت پر لگتی ہے۔ 4,500 روپے کی چیز پر پہلے 20 فیصد رعایت سے قیمت 3,600 روپے ہوئی، پھر اس پر 10 فیصد رعایت یعنی 360 روپے کم ہو کر 3,240 روپے رہ گئی۔ کل بچت 4,500 − 3,240 = 1,260 روپے ہوئی، جو اصل قیمت کا 28 فیصد بنتی ہے، 30 فیصد نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی چیز پہلے 20 فیصد مہنگی ہو اور پھر 20 فیصد سستی، تو قیمت واپس پرانی نہیں آتی۔ 100 روپے کی چیز 20 فیصد بڑھ کر 120 ہوئی، پھر 20 فیصد کم ہو کر 96 روپے رہ گئی۔

"ایک خریدو، ایک مفت" اصل میں کتنی رعایت ہے؟

اس اعلان کا مطلب ہے کہ آپ دو چیزیں لے رہے ہیں مگر پیسے ایک کے دے رہے ہیں، یعنی کل قیمت پر 50 فیصد رعایت۔ اسی طرح "دو خریدو، ایک مفت" میں آپ تین چیزیں لیتے ہیں اور ادائیگی دو کی کرتے ہیں۔ یہاں بچت تین میں سے ایک چیز کی ہے، یعنی تقریباً 33.3 فیصد۔ اگر آپ کو واقعی تینوں چیزوں کی ضرورت نہیں تو یہ سودا فائدہ مند نہیں رہتا، کیونکہ بچت تبھی حقیقی ہے جب آپ وہ چیز ویسے بھی خریدنا چاہتے ہوں۔

فیصد رعایت یا سیدھی رقم کی رعایت؟

فرض کریں ایک دکان 4,000 روپے کی چیز پر 40 فیصد رعایت دے رہی ہے اور دوسری دکان اسی چیز پر 1,500 روپے کی رعایت۔ پہلی دکان میں رعایت 4,000 × 40 ÷ 100 = 1,600 روپے ہے، اس لیے یہ آفر 100 روپے زیادہ بچت دیتی ہے۔ ایسے موازنے میں سب سے پہلے دونوں آفرز کو روپوں میں تبدیل کریں اور پھر فیصلہ کریں۔

رعایت کے بعد ٹیکس کا اثر

کئی جگہ پر سیلز ٹیکس (عام طور پر 18 فیصد) رعایت والی قیمت پر الگ سے جمع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر 10,000 روپے کی چیز پر 20 فیصد رعایت کے بعد قیمت 8,000 روپے ہوئی، اس پر 18 فیصد ٹیکس 1,440 روپے بنا، اس لیے کل ادائیگی 9,440 روپے ہوگی۔ خریدنے سے پہلے پوچھ لیں کہ لکھی ہوئی قیمت میں ٹیکس شامل ہے یا نہیں۔ ٹیکس کی شرحیں بدل سکتی ہیں، اس لیے اپنی رسید پر درج شرح کو ہی حتمی سمجھیں۔

سمجھداری سے خریداری کے مشورے

سیل کے موسم میں سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ اصل قیمت واقعی وہی تھی جو لکھی گئی ہے، کیونکہ کچھ دکاندار رعایت دکھانے کے لیے پرانی قیمت بڑھا کر لکھ دیتے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو مختلف دکانوں یا آن لائن سائٹس پر اسی چیز کی قیمت کا موازنہ کریں۔ فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے بجٹ کو دیکھیں، کیونکہ جو چیز آپ کو چاہیے ہی نہیں، وہ 70 فیصد رعایت پر بھی فضول خرچی ہے۔

ان سب حسابوں کے لیے آپ ہمارا فیصد کیلکولیٹر استعمال کر سکتے ہیں، جس میں فیصد، اضافہ اور کمی تینوں کے حساب موجود ہیں۔ تنخواہ پر ٹیکس کی مثالوں کے لیے تنخواہ پر انکم ٹیکس کی بنیادی باتیں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

← تمام مضامین