تنخواہ پر انکم ٹیکس کی بنیادی باتیں (سلیب 2026-27)

تنخواہ پر ٹیکس کی علامتی تصویر: تنخواہ کی پرچی، ٹیکس سلیب کی سیڑھی اور کیلکولیٹر

تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس ہر سال کی بجٹ خبروں کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے۔ اکثر لوگ اپنی سیلری سلپ پر کٹوتی تو دیکھ لیتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ یہ رقم کس حساب سے بنی۔ اس مضمون میں ہم مالی سال 2026-27 (ٹیکس سال 2027) کے تنخواہ دار افراد کے سلیب سادہ مثالوں کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ یہ عمومی معلومات ہیں، ٹیکس مشورہ نہیں۔

ٹیکس سلیب کا بنیادی اصول

پاکستان میں تنخواہ پر انکم ٹیکس "ترقی پذیر" نظام کے تحت لگتا ہے، یعنی جیسے جیسے سالانہ آمدنی بڑھتی ہے، اوپر والی رقم پر شرح بھی بڑھتی جاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اگلے سلیب میں جانے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی پوری تنخواہ پر نئی شرح لگ جائے۔ نئی شرح صرف اس رقم پر لگتی ہے جو پچھلے سلیب کی حد سے اوپر ہو۔ ہر سلیب میں ایک مقررہ رقم بھی دی جاتی ہے جو نچلے سلیبوں کا جمع شدہ ٹیکس ہوتی ہے۔

مالی سال 2026-27 کے سلیب

وفاقی بجٹ 2026-27 جون 2026 میں پیش ہوا اور رپورٹس کے مطابق فنانس ایکٹ کے تحت یکم جولائی 2026 سے نافذ ہوا۔ تنخواہ دار افراد کے لیے سالانہ آمدنی پر سلیب یہ رپورٹ ہوئے ہیں:

سالانہ آمدنی (روپے)ٹیکس
6 لاکھ تککوئی ٹیکس نہیں
6 لاکھ سے 12 لاکھ6 لاکھ سے اوپر رقم پر 1 فیصد
12 لاکھ سے 22 لاکھ6,000 روپے اور 12 لاکھ سے اوپر رقم پر 11 فیصد
22 لاکھ سے 32 لاکھ1,16,000 روپے اور 22 لاکھ سے اوپر رقم پر 20 فیصد
32 لاکھ سے 41 لاکھ3,16,000 روپے اور 32 لاکھ سے اوپر رقم پر 25 فیصد
41 لاکھ سے 56 لاکھ5,41,000 روپے اور 41 لاکھ سے اوپر رقم پر 29 فیصد
56 لاکھ سے 70 لاکھ9,76,000 روپے اور 56 لاکھ سے اوپر رقم پر 32 فیصد
70 لاکھ سے اوپر14,24,000 روپے اور 70 لاکھ سے اوپر رقم پر 35 فیصد

اسی بجٹ میں زیادہ آمدنی والے تنخواہ داروں پر لگنے والا سرچارج ختم کرنے کا اعلان بھی ہوا اور 35 فیصد کی بلند ترین شرح کی حد 41 لاکھ سے بڑھا کر 70 لاکھ روپے سالانہ کر دی گئی۔ چونکہ ٹیکس قوانین میں ترمیم ہوتی رہتی ہے، اس لیے کسی بھی فیصلے سے پہلے ایف بی آر کی ویب سائٹ سے تازہ سلیب ضرور دیکھ لیں۔

مثال 1: ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ

ماہانہ تنخواہ 1,00,000 روپے ہو تو سالانہ آمدنی 12 لاکھ روپے بنتی ہے۔ یہ رقم 6 لاکھ سے اوپر کے 6 لاکھ پر 1 فیصد کے سلیب میں آتی ہے، یعنی 6,00,000 × 1 فیصد = 6,000 روپے سالانہ۔ ماہانہ حساب سے یہ صرف 500 روپے بنتے ہیں۔

مثال 2: ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ

ماہانہ تنخواہ 1,50,000 روپے ہو تو سالانہ آمدنی 18 لاکھ روپے ہے۔ یہ 12 سے 22 لاکھ کے سلیب میں آتی ہے۔ 12 لاکھ سے اوپر کی رقم 6 لاکھ ہے، اس پر 11 فیصد یعنی 66,000 روپے۔ اس میں مقررہ 6,000 روپے جمع کریں تو سالانہ ٹیکس 72,000 روپے بنتا ہے، یعنی ماہانہ تقریباً 6,000 روپے۔

مثال 3: تین لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ

ماہانہ 3,00,000 روپے پر سالانہ آمدنی 36 لاکھ روپے ہے، جو 32 سے 41 لاکھ کے سلیب میں آتی ہے۔ 32 لاکھ سے اوپر کی رقم 4 لاکھ ہے، اس پر 25 فیصد یعنی 1,00,000 روپے۔ مقررہ 3,16,000 روپے ملا کر سالانہ ٹیکس 4,16,000 روپے ہوا، یعنی ماہانہ تقریباً 34,667 روپے۔

ٹیکس کا حساب لگانے کا آسان طریقہ

سب سے پہلے ماہانہ قابل ٹیکس تنخواہ کو 12 سے ضرب دے کر سالانہ آمدنی نکالیں۔ پھر دیکھیں کہ یہ رقم کس سلیب میں آتی ہے۔ اس سلیب کی مقررہ رقم لکھیں، پھر سلیب کی نچلی حد سے اوپر کی رقم پر اس سلیب کی شرح لگائیں اور دونوں کو جمع کر لیں۔ آخر میں سالانہ ٹیکس کو 12 پر تقسیم کر کے ماہانہ کٹوتی معلوم کریں۔ فیصد کے حساب میں مدد کے لیے ہمارا فیصد کیلکولیٹر استعمال کر سکتے ہیں۔

ان باتوں کا خیال رکھیں

ماہانہ کٹوتی آپ کا آجر (ادارہ) ہر مہینے تنخواہ سے کر کے ایف بی آر کو جمع کراتا ہے۔ اس میں سارا الاؤنس شامل ہوگا یا نہیں، اور کون سی رعایتیں یا ٹیکس کریڈٹ لاگو ہوں گے، یہ آپ کی تنخواہ کی ساخت پر منحصر ہے۔ اگر آپ کی کوئی اضافی آمدنی ہے، جیسے کرایہ یا فری لانسنگ، تو وہ تنخواہ کے سلیب میں شامل نہیں ہوتی اور اس کا حساب الگ سے ہوتا ہے۔ سالانہ ریٹرن بھرنے کی شرائط بھی الگ ہیں، اس لیے اگر آپ کی صورتحال پیچیدہ ہے تو کسی مستند ٹیکس ایڈوائزر سے مشورہ کر لیں۔

دستبرداری: اس مضمون کے اعداد و شمار عمومی معلومات کے لیے ہیں اور ہم ٹیکس مشیر نہیں ہیں۔ حتمی اور تازہ معلومات کے لیے ایف بی آر کی سرکاری ویب سائٹ یا اپنے آجر کے پے رول شعبے سے رجوع کریں۔

← تمام مضامین