یہ ٹول آپ کے نقد، سونے، چاندی، کاروباری مال اور قرضوں کو دیکھ کر اندازہ لگاتا ہے کہ آپ پر کتنی زکوٰۃ بنتی ہے۔
چاندی کا تازہ ریٹ اپنے شہر کی صرافہ مارکیٹ سے دیکھ کر لکھیں، باقی خانوں میں اپنے اثاثوں کی رقم درج کریں اور بٹن دبائیں۔ ٹول کل مال میں سے قرض نکال کر نصاب سے موازنہ کرتا ہے اور اگر مال نصاب کے برابر یا زیادہ ہو تو ڈھائی فیصد زکوٰۃ بتاتا ہے۔
ٹول پہلے نصاب معلوم کرتا ہے، جو آپ کے لکھے ہوئے چاندی کے فی تولہ ریٹ کو 52.5 تولہ سے ضرب دینے پر نکلتا ہے۔ پھر آپ کے نقد، بینک بیلنس، سونے، چاندی، کاروباری مال اور وصول ہونے والی رقوم کو جمع کیا جاتا ہے اور اس میں سے آپ کا قرض گھٹا دیا جاتا ہے۔ اگر بچی ہوئی رقم نصاب کے برابر یا زیادہ ہو تو اس کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔
فرضی مثال: چاندی کا ریٹ 3,000 روپے فی تولہ ہو تو نصاب 157,500 روپے بنتا ہے۔ اگر کسی کے پاس 100,000 نقد، 200,000 کا سونا اور 20,000 ملنے والے ہوں اور 30,000 کا قرض ہو تو کل مال 290,000 ہوگا۔ یہ نصاب سے زیادہ ہے، اس لیے زکوٰۃ 7,250 روپے بنتی ہے۔ یہ اعداد صرف سمجھانے کے لیے ہیں۔
زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے مال پر ایک قمری سال گزرنا ضروری ہے۔ اپنے ذاتی استعمال کی چیزیں جیسے رہائشی مکان، گھر کا سامان اور استعمال کی گاڑی زکوٰۃ کے مال میں شمار نہیں ہوتیں، البتہ کاروبار کے لیے رکھا گیا مال شامل ہوتا ہے۔ دوسروں سے جو رقم وصول ہونی ہو وہ اسی وقت لکھیں جب اس کے ملنے کی امید ہو۔ فقہ حنفی کے مطابق سونے کا الگ نصاب ساڑھے سات تولہ ہے، لیکن جب سونا اور چاندی یا نقد مل کر ہوں تو عام طور پر چاندی کا نصاب معیار بنایا جاتا ہے۔ اس ٹول میں اسی کو لیا گیا ہے۔
زکوٰۃ کن پر فرض ہے، کن مصارف میں دی جاتی ہے اور کن رشتہ داروں کو نہیں دی جا سکتی، یہ سب زکوٰۃ کس پر فرض ہے میں تفصیل سے موجود ہے۔ سونے اور چاندی کے نصاب کا حساب سونا چاندی کا زکوٰۃ نصاب میں دیکھیں، اور وزن کی اکائیاں بدلنے کے لیے تولہ گرام کنورٹر استعمال کریں۔